Skip to main content

my quran journey

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی رہبانیت اور اس کی مذمت
آیت کا تجزیہ آیت کا ترجمہ
رہبانیت یا ترکِ دنیا درست نہیں، کیونکہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم دنیا میں رہو، مگر اس کے طالب نہ بنو۔ بلکہ دنیا کو بھلائی کی طرف لانے اور اسے بہتر بنانے کی جدوجہد کرو شیطان کا آخری دھوکہ رہبانیت ہے 1 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰهِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ ۚ وَكَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ ۟ 26
انبیا کی نسل میں نبوت کی کچھ تفصیل 2 ہم نے ہی بھیجا تھا نوح ؑ کو بھی اور ابراہیم ؑ کو بھی اور ہم نے انہی دونوں کی نسل میں رکھ دی نبوت اور کتاب تو ان (کی نسل) میں کچھ تو ہدایت یافتہ بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے
صحتمند فطرت رکھنے والا انسان کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی حالت محسوس کرتا ہے اور مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے 1 ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ۙ وَجَعَلۡنَا فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً  ؕ 27
نیکی کے جذبے میں بھی اعتدال ضروری ہے، اور اس اعتدال کے لیے مکمل اور کامل نمونہ صرف حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے 2 پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول ؑ اور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کردی
حضرت عیسیٰؑ کے پیروکاروں نے نیکی کے جذبے میں حد سے بڑھتے ہوئے رہبانیت کو اختیار کیا، جو کہ ایک غلط طرزِ عمل تھا 3
تین صحابہ کا واقعہ اور حضور ﷺ کی رہنمائی 4
رہبانیت کا مطلب ہے اپنے نفس کو کچل دینا یا دبا دینا، جیسے کہ: اچھے اور صاف کپڑے نہ پہننا، دنیا سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لینا، شادی نہ کرنا، عام دنیاوی ضروریات کو ترک کر دینا، وغیرہ وغیرہ۔ 1 رہبانیت کی تفصیل وَرَهۡبَانِيَّةَ اۨبۡتَدَعُوۡهَا مَا كَتَبۡنٰهَا عَلَيۡهِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰهِ
رہبانیت کی شروعات بدعت سے ہوتی ہے، جس کے پیچھے نیکی کا جذبہ ہوتا ہے 2 اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھا مگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں
رہبانیت کا نتیجہ دراصل شیطان کی کامیابی ہے، کیونکہ جب نیکی کے جذبے میں لوگ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں، تو شیطان کا نظام بے روک ٹوک چلتا ہے 3
اسلام کی رہبانیت اللہ کی راہ میں جہاد و جدوجہد کرنا ہے 4
رہبانیت ایک انتہا ہے، جبکہ دنیا کا کتا بن جانا دوسری انتہا۔ دونوں میں سب سے بری چیز دنیا کا کتا بن جانا ہے 5
ہمارے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ ہم اللہ کے خوف کے ساتھ ساتھ اللہ کی رحمت کی امید بھی رکھیں 6
کیونکہ رہبانیت انسان کی فطرت کے خلاف ہے، اس لیے اس پر عمل کرنے کا ارادہ کرنے کے باوجود اس پر قائم رہنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے 7 فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا​ ۚ
صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ انسان اپنے نفس پر زیادتی نہ کرے، بلکہ اپنی تمام تر طاقت کو اللہ کے دین کی جدوجہد میں اور نظامِ عدل قائم کرنے میں لگائے 8 پھر وہ اس کی رعایت بھی نہ کرسکے جیسا کہ اس کی رعایت کرنے کا حق تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے جو لوگ اپنی عائد کردہ پابندیوں کو پورا کرتے ہیں، ان کو اللہ کی طرف سے ان کا اجر دیا جائے گ 9 رِعَايَتِهَا​ ۚ فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ​ۚ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ‏
تو ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ان کا اجر دیا جو ایمان لے آئے۔ لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔
ہمارے لیے نیکی کا واحد اور کامل معیار صرف حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے
آیت کا تجزیہ آیت کا ترجمہ
نیکی کا صحیح معیار صرف حضرت ﷺ کی ذات ہے 1 سیرتِ نبوی ﷺ کی اہمیت يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَاٰمِنُوۡا بِرَسُوۡلِهٖ يُؤۡتِكُمۡ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ 28
دین ایک مکمل نظام ہے جو قرآن اور سنت کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے 2 اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے رسول ﷺ محمد ﷺ پر ایمان لائو وہ تمہیں دہرا حصہ عطا کرے گا اپنی رحمت سے
دین کو قائم کرنے کا طریقہ بھی حضرت ﷺ سے ہی لینا ہے 3
حضور ﷺ کی سنت اس دنیا میں ہمارے لیے ایک نور ہے، جس کی روشنی میں اگر ہم چلیں گے تو صحیح منزل تک پہنچ سکتے ہیں 4 رَّحۡمَتِهٖ وَيَجۡعَلْ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ​ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۙۚ‏
یہی نور پل صراط پر بھی ہمارے کام آئے گا۔ 5 اور وہ تمہیں ایسا نور عطا فرمائے گا جس کو لے کر تم چل سکوگے
اگر اس نور کی روشنی میں چلتے ہوئے کوئی غلطی ہو جائے اور انسان سچے دل سے توبہ کر لے، تو اللہ تعالیٰ اُسے ضرور معاف فرما دیتا ہے 6 او وہ تمہیں بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
اہلِ کتاب کے لیے اب بھی امید کا دروازہ کھلا ہے، اگر وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۟ 29
(یہ اس لیے ہے) تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے اور فضل یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
×