سورۃ الحدید 10 مدنی سورۃوں کے گروپ میں ہے جن میں سارا خطاب
مسلمانوں سے ہے
1
سورۃ الحدید کا قرآن حکیم میں مقام
یہ 10 سورۃیں مدنی دور کے آخری 5 سال میں نازل ہوئیں اور مسلمانوں
سے خطاب کا نقطۂ عروج ہے
2
ان سورۃوں میں قرآن حکیم کے اہم ترین مضامین کے خلاصے دے دیے گئے
ہیں
3
ان سورۃوں میں مسلمانوں کو ملامت کی جا رہی ہے کیونکہ یہ سورۃیں
مسلمانوں کے زوال کے آغاز میں نازل ہوئیں
4
آج اُمتِ مسلمہ کے دورِ زوال میں یہ 10 سورۃیں اہم ترین ہیں
5
ان 10 سورۃوں کا خلاصہ سورۃ الحدید ہے
6
اللّٰہ کی بلند شان اور طاقت بے مثال
ذات و صفاتِ باری کے ضمن میں جامع ترین مقام
(Analysis) آیت کا تجزیہ
آیت کا ترجمہ
ہمارے لیے اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا بالکل صحیح تصور قائم کرنا ممکن نہیں
1
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۟
1
لیکن ہم اللہ کی ذات کو دل میں محسوس کر سکتے ہیں
2
تسبیح کی دو اقسام
تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے
تسبیحِ قولی زبان سے تسبیح کرنے کو کہتے ہیں، یہ تسبیح کائنات کی ہر شے کر رہی ہے لیکن ہم اسے نہیں سمجھ سکتے
1
تسبیحِ حالی کا مطلب کسی چیز کا وجود اس کے بنانے والے کی گواہی دیتا ہے
2
اللہ کے دو بہت اہم نام
وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
اللہ کا اختیار مکمل ہے، اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے
الْعَزِيزُ
1
اور وہ بہت زبردست ہے کمال حکمت والا۔
اللہ پر چیک صرف اس کی اپنی ذات کا ہے، اور اس کا کوئی بھی کام حکمت کے بغیر نہیں ہوتا
الْحَكِيمُ
2
نظریۂ توحید کا سیاسی حصہ
لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
2
وہ
صرف خالق نہیں ہے بلکہ بادشاہ ہے
1
اگر
کوئی انسان یا کوئی ادارہ حاکم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اللہ کا باغی ہے
2
پوری
کائنات میں اس کا حکم چل رہا ہے، صرف اس زمین پر فساد ہے – کبھی کوئی فرعون اور
نمرود، اور آج ووٹ کے ذریعے
3
اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی
جو
اللہ کا وفادار ہے، اس پر فرض ہے کہ اس بغاوت کے خلاف کھڑا ہو، ورنہ وہ بھی باغی
شمار ہوگا
4
مادیت پرستی، سائنسی الحاد، دہریت، الحاد اور نیچریت ایک شرک ہیں
یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ۚ
الحاد یا مادہ پرستی میں یہ کہا جاتا ہے کہ انسان خود ہی زندہ رہتا ہے اور خود ہی مرتا ہے، لیکن یہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور وہی مارتا ہے
1
وہی زندہ رکھتا ہے وہی مارتا ہے
پوری دہریت کی تفصیل سورۃ الجاثیہ میں ہے – ہم بس دہر (زمانے) اور گردشِ فلک کی وجہ سے ہی جیتے اور مرتے ہیں، کوئی اور ہستی نہیں
2
اللہ کی صفات
وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
اللہ کی صفات اور طاقت کا صحیح اندازہ ناممکن ہے
1
اور وہ ہرچیز پر قادر ہے
صفات کے بارے میں صرف ایک لفظ ہے ہمارے پاس، اور وہ ہےکُل
2
آیت کی خاص شان یہ ہے کہ اللہ کے چار اسماء و صفات ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں