my quran journey

MN 4.1

تعارف
یہ باب برزخی نویت کا ہے۔ 1
دعوتِ عام- تمام بنی نوع انسان کے لیے 1 دعوتِ قرآنی کا خلاصہ اور اس کے دو حصے 2
دعوتِ خاص - مسلمانوں کے لیے 2
قرآن قیامت تک انسانوں کے لیے رہنما ہے۔ 3
توحید حقیقی - اللہ کے اختیار میں کوئی بُت، فرشتے یا بزرگ شامل نہیں 4
دعوتِ عام ۔ پوری نوح انسانیت کو تین چیزون کی دعوت
(Analysis) آیت کا تجزیہ آیت کا ترجمہ
بت پرستی کے شرک پر ایک ضرب 1 توحید کی دعوت 1 يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَنۡ يَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَهٗ​ ؕ وَاِنۡ يَّسۡلُبۡهُمُ الذُّبَابُ شَيۡــًٔـا لَّا يَسۡتَـنۡـقِذُوۡهُ مِنۡهُ​ ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالۡمَطۡلُوۡبُ‏ 73
انسانوں کے وہ مقاصد جن کے لیے وہ محنت مشقت کرتے ہیں 2
بِنا مقصد 2.1
اگر انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں تو وہ انسان حیوان کی ستہ پر زندگی گزارتا ہے
خود پرستی 2.2
سب سے گھٹیا مقصد نفس کی خواہشات کو پورا کرنا اور صرف اپنے بارے میں سوچنا ہے۔
قوم پرستی 2.3 اے لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے پس اسے ذرا توجہّ سے سنو یقیناً (تمہارے وہ معبود) جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ایک مکھی بھی تخلیق نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے اکٹھے ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو یہ اس سے وہ چیز چھڑا نہیں سکتے کس قدر کمزور ہے طالب بھی اور مطلوب بھی
صرف اپنی قوم کی بہتری کے لیے کوشش کرنا
انسان دوست 2.4
تمام انسانوں کے ساتھ محبت اور ان کی خیر خواہی کا جذبہ
کسی نظریے کے لیے محنت کرنا 2.5
For Example Communism & Capitalism
خدا پرستی 2.6
سب سے اونچا مقصد اللہ کے ہر حکم پر عمل اور اُس کے نظام کے لیے جدوجہد
توحیدِ حقیقی کا لب لباب خدا پرستی ہے مطلب مطلوبِ حقیقی صرف اللہ کی ذات بن جائے
شرک کا سبب 3 مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ‏ 74
جب اِنسان اللہ اور اُس کی صفات کو اپنے ذہن کے چھوٹے سے پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرتا ہے
ایک طاقت ور ترین بادشاہ کی حکومت بھی اُس کے ہماتیوں کی محتاج ہوتی ہے اور اللہ کو بس ایک طاقت ور بادشاہ تصور کرنے سے دیوی اور دیوتاؤں کا تصور بنا 3.1
ایک طاقتو ر ترین انسان کے لیے بھی اپنی بیٹی کی بات رد کرنا مشکل ہوتا ہے ...اسی بنیاد پر عرب والوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنایا اور ان کے نام کے بت بنائے 3.2 انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق تھا یقیناً اللہ بہت طاقت والا سب پر غالب ہے
بڑے سے بڑے انسان کے بھی کچھ دوست ہوتے ہیں جن کی بات وہ رد نہیں کر سکتا...ایسی بُنیاد پر اولیاء اللہ کو بھی خداؤں کی فرست میں شامل کر لیا گیا 3.3
اگر کوئی انسان اللہ کی عظمت اور صفات کا اندازہ کر لیں تو وہ کسی اور چیز کا پرستار نہیں ہو سکتا
رسالت کی دو  کڑیاں 1 رسالت کی دعوت 2 اَللّٰهُ يَصۡطَفِىۡ مِنَ الۡمَلٰٓٮِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ بَصِيۡرٌ ​ۚ‏ 75
حضرت جبرائیل 1.1
اللہ کے چنے ہوئے پیغمبر 1.2
رسالت کی تیسری کڑی 2 اللہُ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی یقینا اللہ سب کچھ سننے و الا دیکھنے والا ہے
اُمتِ محمدؐ 2.1
حضرت جبرائیلؑ کی حضرت محمدؐ سے ملاقات 3
آخرت پر ایمان کی اہمیت 1 آخرت کی دعوت 3 يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ​ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ‏ 76
یہاں ایمان بلا خرت کا ذکر بہت مختصر آیا ہے کیونکہ تفصیل اِس سورة کے پہلے رکوع میں آ چکی ہے 2 وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام معاملات لوٹا دیے جائیں گے
اللہ کے علم میں ہر انسان کا ہر عمل چاہے وہ اس کی زندگی میں ہو یا پھر اس کے مرنے کے بعد اس کے عمل کےاثرات ہو 3
سورة حج کے پہلے رکوع میں آخرت کا مضمون
انسان کو مٹی سےپیدا کیا گیا .. آج سائنس بھی اسی نیتجے پر پہنچ چکی ہے 1 مرنے کے بعد زندگی کے دلائل يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ​ۚ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَىۡءٌ عَظِيۡمٌ‏ 1
اے لوگو ! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا یقیناً قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡـتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَـعۡثِ فَاِنَّـا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ لِّـنُبَيِّنَ لَـكُمۡ​ ؕ وَنُقِرُّ فِى الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّكُمۡ ​ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡــًٔـا​ ؕ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَاَنۡۢبَـتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۢ بَهِيۡجٍ‏ 5
ماں کے پیت میں انسان کیسے انسان وجود میں آنے کے مختلف مراحل 2
اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے کے بارے میں شک ہے تو (ذراغور کرو کہ) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر علقہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے واضح شکل والا اور غیرواضح شکل والا تاکہ ہم کھول کھول کر بیان کردیں تمہارے لیے اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں رحموں کے اندر جو ہم چاہتے ہیں ایک وقت معین تک پھر ہم نکالتے ہیں تمہیں چھوٹے سے بچے کی صورت میں پھر تم پہنچتے ہو اپنی جوانی کو اور تم میں وہ بھی ہیں جو پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو نکمی عمر تک لوٹائے جاتے ہیں کہ اسے کچھ بھی علم نہ رہے سب کچھ جاننے کے بعد اور تم دیکھتے ہو زمین کو خشک (اور ویران) پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ لہلاتی ہے اور ابھرتی ہے اور قسم قسم کی ترو تازہ چیزیں اگادیتی ہے
انسان کی پیدائش سے موت تک مَراحِل 3
ذٰ لِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَـقُّ وَاَنَّهٗ يُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۙ‏ 6
زمین جو ویران اور مردہ ہو جاتی ہے صرف پانی کے براسنے سے اُسے کیسے زندگی مل جاتی ہے 4 یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے (یا کرے گا) اور یہ کہ وہ ہرچیز پر قادر ہے
وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ يَـبۡعَثُ مَنۡ فِى الۡقُبُوۡرِ‏ 7
اور یہ کہ قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں
دعوتِ خاص - وہ لوگ جو ایمان لائے ان کو عمل کی دعوت اور کامیابی کے لیے 4 شرایط کا ذکر
آیات 77 اور 78 کے درمیان تعلق - ترازو 1
صرف ایمان کے دعوے سے فلاح کا وعدہ نہیں ہے 2
شرائط پر عمل کرنے سے اللہ کا فلاح کا وعدہ 3
(Analysis) آیت کا تجزیہ آیت کا ترجمہ
سجدے کی مختلف شکلیں 1 شرط نمبر 1 اللہ کے سامنے سجدہ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ارۡكَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمۡ وَافۡعَلُوۡا الۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ 77
حقیقی سجدہ - صرف جسم نہیں بلکہ اپنے نفس اور اپنی انا کو اللہ کے سامنے جھکانا ہے 2 اے ایمان کے دعوے دارو ! جھک جاؤ اور سر بسجود ہوجاؤ
بندگی شرط نمبر 2 اللہ کی عبادت کا حکم اور اپنے رب کی بندگی کرو
اللہ کے ہر حکم کی غلامی کرنا 1
انسان اللہ کا ابد غلام ہے 2
عبادات
اللہ کے ہر حکم کی غلامی یا بندگی محبت کے جذبے سے کرنا 1
کوئی شے انسان کو اللہ سے زیادہ محبوب اور مطلوب نہ رہے 2
زکوٰۃ کے علاوہ مال میں بھی لوگوں کے حقوق ہیں۔ 1 شرط نمبر 3 خدمت خلق اور نیک کام کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
اعلیٰ ترین مقام۔ جو چیز ضرورت سے زیادہ ہو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو 2
خدمت خلق کے تین تصوّرات
خدمتِ خلق کا وہ تصور جو سارے مذاہب میں ہے، بھوکے کو کھانا، مسافر کی مدد، یتیم خانہ 1
اگر ایمان ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے تو سب سے بڑی خدمتِ خلق یہ ہے کہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ 2
نظام اگر غلط ہے تقسیمِ دولت غلط ہے تو اِس نظام میں صرف بھوکوں کو کھانا کھلانے سے غربت ختم نہیں ہو گی بلکہ اصل کام نظام بدلنے سے ہو گا 3
GHG
جہاد کے لفظی معنی 1 شرط نمبر 4۔ جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت الناس وَجَاهِدُوۡا فِى اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ​ؕ هُوَ اجۡتَبٰٮكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ​ؕ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰهِيۡمَ​ؕ هُوَ سَمّٰٮكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِىۡ هٰذَا لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ​ ​ۖۚ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰهِؕ هُوَ مَوۡلٰٮكُمۡ​ۚ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ 78
اللہ کی راہ میں مُقابلہ مثلاً آپ اللہ کے نظام کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ کے مقابلے میں کوئی کسی نظام کی کوشش کر رہا ہے 2
حضور اور صحابہ کی انتہائی محنت اور مشقت کے بعد دعوت کا حق ادا ہوا لیکن ہمارا طرزِ عمل کیا ہے؟ 3
اور جہاد کرو اللہ کے لیے جیسا کہ اس کے لیے جہاد کا حق ہے اس نے تمہیں چن لیا ہے
رسالت کا فریضہ اب امتِ مسلمہ پر 4
حضورؐ کے دور میں بھی صحابہ رسولؐ کی طرف سے تبلیغ کر رہے تھے 5
ہماری خوش قسمتی ہےکہ اللہ نے ہمیں رسالت کے کام کے لیے منتخب کیا ہے 6
عیسائی، یہودی اور مسلمان حضرت ابراہیمؑ کو اپنا امام مانتے ہیں 7 اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی تمہارے جدّ امجد ابراہیم ؑ کی ملت
ہمیں خود کو مسلمان کے سوا ہ کچھ اور نہیں کہنا چاہیئے 8 اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس سے پہلے بھی (تمہارا یہی نام تھا) اور اس (کتاب) میں بھی ہے
خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران حضرت ابراہیم اور اسماعیلؑ کی دعا 9
شہادت علی النّاس کا مطلب لوگو ں کے خلاف گواہی۔ تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو
شہادت کے لفظی معنی گواہ، مدد گار 1
قیامت کے دن نبی اور رسولوں کی گواہی کا مقصد لوگوں کے پاس یہ بہانا نہ ہو کہ ان تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچا۔ 2
حضورؐ کے اِس آیت پر آنسو جاری 3
شہادت علی النّاس اور ہم
ضروری ہے کہ ہمارے اعمال قرآن کے مطابق ہوں۔ 1
رسولؐ نے ایک نظام قائم کر کے پوری دنیا پر حُجَّت قائم کر دی کہ وہ نظام قائم ہو سکتا ہے۔ 2
اس دور کی علمی سطح کے مطابق دعوتِ قرآن کو عام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ 3
شہادت علی النّاس کی تکمیل تب ہو گی جب ہم نظام کو قائم کر کے دیکھا دیں اور لوگوں پر حجت قائم ہو جائے کہ یہ نظام قائم ہو سکتا ہے جیسے رسولؐ نے قائم کیا 4
قیامت کے دن سوال ہوگا کہ ہم نے آگےپہنچانےکی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ 5
شہادت علی النّاس کا کام کیسے شروع کیا چاہیے؟ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کے ساتھ چمٹ جاؤ وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور کیا ہی اچھا ہے مددگار
شہادت علی النّاس کا کام ، ارکان اسلام کو مکمل کرنے سے شروع ہو گا۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ 1
اللہ کے ساتھ لپٹنے کا مطلب ہے قرآن سے لپٹنا 2
×