ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ کر شکر اللہ کا اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کو کرتا ہے اور جو کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرتا ہے تو اللہ غنی ہے اُسے کسی کی طرف سے کسی قسم کی حمد کی کوئی حاجت نہیں۔
اور یاد کر جب کہا تھا لقمان نے اپنے بیٹے سے جب اُسے نصیحت کر رہے تھے (وصیت کے انداز میں) اے میرے بچّے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ یقیناً شرک ایک بڑا ظلم ہے بہت نا انصافی ہے۔
اور ہم نے وصیت کی انسان کو اس کے والدین کے بارے میں اس کو اٹھائے رکھا اس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) کمزوری پر کمزوری جھیل کر اور اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں کہ تم شکر کرو میرا اور اپنے والدین کا اور میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہوگ
اور اگر تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک کرو اُس چیز کو جس کے بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہیں تو اُن کا کہنا مت مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ رہو بہتر انداز میں اور پیروی کرو اُس شخص کی جو میری طرف رُخ کرچکا۔ پھر میری ہی طرف تمھارا لوٹنا ہے پھر میں تمھیں جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔
اے میرے بچّے اگر وہ (کوئی اچھا یا برا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، پھر وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر اُسے اللہ لے آئے گا۔ یقیناً اللہ بہت باریک بین، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔