حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی رہبانیت اور اس کی مذمت
آیت کا تجزیہ
آیت کا ترجمہ
رہبانیت یا ترکِ دنیا درست نہیں، کیونکہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم دنیا میں رہو، مگر اس کے طالب نہ بنو۔ بلکہ دنیا کو بھلائی کی طرف لانے اور اسے بہتر بنانے کی جدوجہد کرو
ہم نے ہی بھیجا تھا نوح ؑ کو بھی اور ابراہیم ؑ کو بھی اور ہم نے انہی دونوں کی نسل میں رکھ دی نبوت اور کتاب تو ان (کی نسل) میں کچھ تو ہدایت یافتہ بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے
صحتمند فطرت رکھنے والا انسان کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی حالت محسوس کرتا ہے اور مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے
نیکی کے جذبے میں بھی اعتدال ضروری ہے، اور اس اعتدال کے لیے مکمل اور کامل نمونہ صرف حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے
2
پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول ؑ اور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کردی
حضرت عیسیٰؑ کے پیروکاروں نے نیکی کے جذبے میں حد سے بڑھتے ہوئے رہبانیت کو اختیار کیا، جو کہ ایک غلط طرزِ عمل تھا
3
تین صحابہ کا واقعہ اور حضور ﷺ کی رہنمائی
4
رہبانیت کا مطلب ہے اپنے نفس کو کچل دینا یا دبا دینا، جیسے کہ:
اچھے اور صاف کپڑے نہ پہننا،
دنیا سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لینا،
شادی نہ کرنا،
عام دنیاوی ضروریات کو ترک کر دینا،
وغیرہ وغیرہ۔
(یہ اس لیے ہے) تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے اور فضل یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔