فرشتے بہت سختی سے منافقین سے کہیں گے: "یہ نور ایسے ہی
نہیں مل جاتا، یہ مومنوں نے دنیا میں کمایا تھا
2
جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھالیں۔ کہا جائے گا : لوٹ جائو پیچھے کی طرف اور تلاش کرو نور
فرشتوں اور منافقین کے درمیان گفتگو ہو رہی ہوگی کہ اچانک ان
کے درمیان ایک فصیل کھڑی کر دی جائے گی
3
پھر ان کے درمیان ایک فصیل کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس (فصیل) کی اندرونی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔
فصیل کے ایک طرف جنت ہوگی جبکہ دوسری طرف جہنم
کا عذاب شروع ہو جائے گا
4
فصیل
میں ایک دروازہ یا راستہ ہوگا، وہاں سے وہ مسلمان جن کے پاس ایمانِ حقیقی ہوگا،
لیکن برے اعمال کی وجہ سے جہنم میں جانا پڑے گا، سزا پا کر جنت میں داخل کر دیے
جائیں گے۔
5
نفاق کی دو اقسام ہیں: شعوری اور غیر شعوری۔
اس آیت میں غیر شعوری نفاق کی تفصیل بیان ہوئی ہے
جہاد
بالمال اور جہاد بالنفس ان لوگوں کے لیے آزمائش بن جاتی ہے
2
وہ (منافق) انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟
غیر
شعوری منافق کہتے تھے کہ دعوت، تبلیغ اور تعلیم دی جانی چاہیے، لیکن کافروں سے
ٹکراؤ یا انہیں چیلنج نہیں کرنا چاہیے
3
پہلا
فتنے کی صورت میں جو انسانوں کے ہاتھوں مومنین پر تشدد کی صورت میں آتا ہے
1
فتنہ کی تین اقسام
ہاں کیوں نہیں ! (تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی)۔ لیکن تم نے اپنے آپ کو (اپنے ہاتھوں) فتنے میں ڈالا اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے
دوسرا
فتنہ اللہ کی طرف سے آتا ہے تاکہ اللہ یہ ظاہر کرے کہ کون سچا مومن ہے
2
تیسرا
فتنہ وہ ہے جو انسان خود اپنی مرضی سے اپنے آپ کو ڈال لیتا ہے، مثلاً اولاد اور
مال کو فتنہ کہا گیا ہے، جن کی محبت میں انسان صحیح اور غلط کی تمیز بھول جاتا
ہے
3
اگر کچھ تھوڑا بہت ایمان حاصل بھی ہوا تھا تو اس میں شک و شبہات نے گھیر لیا۔
اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے
اور
آخرکار اپنے گھڑے ہوئے خیالات نے دھوکہ دیا، جس سے صفات کا غلط تصور پیدا ہوگیا۔
اللہ غفور و رحیم ہے، وہ ہی بخشنے والا ہے
1
اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا
جب
صفات کا یہ غلط تصور ذہن میں آ جائے تو اصلاح تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے کیونکہ
غلطی کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے
2
غیر شعوری منافقین کا انجام کافروں کے ساتھ ہوگا—جہنم