پہلی چھ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئی ہیں، جیسے کہ وہ عزیز، حکیم، ہر چیز کا علم رکھنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہماری نجات کس چیز پر منحصر ہے۔
(Analysis) آیت کا تجزیہ
آیت کا ترجمہ
صرف زبانی نہیں، بلکہ ایمانِ حقیقی لانے کا مطالبہ
پہلا مطالبہ
ٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ
7
ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر
اللہ نے جو کچھ بھی دیا ہے، چاہے وہ کوئی صلاحیت ہو یا مال، اسے اللہ کی راہ میں لگا دو، کیونکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ دراصل ہمارا نہیں، بلکہ اس کا دیا ہوا ہے اور اسی کی امانت ہے
اور خرچ کرو ان سب میں سے جن میں اس نے تمہیں
خلافت عطا کی ہے۔
اللہ نے جو کچھ بھی دیا ہے، چاہے وہ کوئی صلاحیت ہو یا مال، اسے اللہ کی راہ میں لگا دو، کیونکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ دراصل ہمارا نہیں، بلکہ اس کا دیا ہوا ہے اور اسی کی امانت ہے
پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے (اپنے مال و جان کو) خرچ کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔
پہلے مطالبے کی تفصیل
ایمانِ حقیقی
مسلمانوں کو ڈانٹ دیا جا رہا ہے کہ وہ کیوں ایمانِ حقیقی نہیں لاتے، اور یہ خطاب اُس دور کے ساتھ ساتھ آج ہمارے لیے بھی ہے
پھیلتی
ہوئی برائیوں کو روکنے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے وسائل درکار ہیں.
مال بھی اور جان بھی۔ پھر تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کیوں کرتے ہو؟
2
یاد
رکھو کہ یہ جان و مال تمہارے پاس ہمیشہ نہیں رہیں گے کیونکہ تم مر جاؤ گے۔
3
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں جبکہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے انفاق کیا اور قتال کیا فتح سے پہلے وہ (فتح کے بعد انفاق اور قتال کرنے والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ ان لوگوں کا درجہ بہت بلند ہے ان کے مقابلے میں جنہوں نے انفاق اور قتال کیا فتح کے بعد۔ اگرچہ ان سب سے اللہ نے بہت اچھا وعدہ فرمایا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
جان کھپانے کی ایک اور
شکل قتال ہے
4
اگر
حالات زیادہ مشکل ہوں گے تو ان حالات میں جہاد کرنے کا زیادہ ثواب ملے گا اور
اسی کی بنیاد پر جنت کے مختلف درجات ملیں گے
5
اللہ
تعالیٰ کی طرف سے انتہائی حوصلہ افزائی ہے کہ اگر تم میرے دین کے لیے خرچ کر رہے
ہو تو تم مجھے قرضِ حسنہ دے رہے ہو